میں نے جس کو چاہا ، وہ پاس نہ رہا
یہ من مرا ، ہمیشہ اُداس ہی رہا
ماسوائے حقیقی چند خاص رشتوں کے
یہ دل ہمیشہ تم جیسوں کی تلاش میں رہا
میں نے جس کو چاہا ، وہ پاس نہ رہا
یہ من مرا ، ہمیشہ اُداس ہی رہا
ماسوائے حقیقی چند خاص رشتوں کے
یہ دل ہمیشہ تم جیسوں کی تلاش میں رہا
آج پھر وہی سِسکی دی سُنائی
جیسے یاد ِ آنگن میں کلی کوئی مرجھائی
اِک شیش محل میں بند تھا میں بھی
ناتواں چہروں کے سنگ تھا میں بھی
میں کاٹ رہا ہوں ، تُو کٹ رہی ہے
کس موڑ پر مُجھے کھڑا کر رہی ہے
اے زندگی تو سنبھل ذرا، تھم ذرا
ٹھہر جا ، مزاج اپنے کو پرکھ ذرا
تم سے ملنا میری قسمت تھی
تم پر ٹھہرنا میری مرضی تھی
وہ پہلی نظر تمہیں دیکھنا زندگی لگی
جیسے تاریک غار میں شمع کہیں جلی